رسائی کے لنکس

کابل کے فوجی اسپتال پر حملے میں اموات 25 ہو گئیں، طالبان رہنما حمد اللہ مخلص بھی ہلاک


اشرف غنی کے ملک سے فرار کے بعد صدارتی محل پر قبضہ کرنے والے طالبان کے گروہ میں سابق صدر کے سابق باڈی گارڈ بھی شامل۔ 15 اگست 2021ء (فائل فوٹو)

کابل کے وسط میں واقع اہم ترین فوجی اسپتال پر منگل کو ہونے والے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر پچیس ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد پچاس بتائی جاتی ہے۔ طالبان ترجمان نے حملے کی ذمہ داری داعش خراسان پر عائد کی تھی اور کہا تھا کہ یہ پچیس ہلاکتیں دو زوردار بم دھماکوں میں حملے کے ابتدائی 15 منٹوں کے دوران ہو گئی تھی، جب کہ اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق دھماکوں میں طالبان کمانڈر، مولوی حمد اللہ مخلص ہلاک ہوئے۔ جبکہ داعش خراسان نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق،داعش خراسان کے مسلح جنگجوؤں نے یہ دھماکے 400 بستروں پر مشتمل سردار داؤد خان ملٹری اسپتال کے داخلی دروازے کے پاس کیے۔ طالبان ترجمان نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کی مدد سے طالبان خصوصی فورسز کو اسپتال کے احاطے پر اتارا گیا، اور یوں حملہ آوروں کو اسپتال میں مزید آگے آنے سے روک دیا گیا۔

یہ تمام ہلاکتیں ہسپتال کے داخلی دروازے اور صحن پر کیے گئے دھماکوں کے نتیجے میں ہوئیں۔ اس سے قبل ایک اور ترجمان نے بتایا تھا کہ ایک مسلح جنگجو کو پکڑ لیا گیا ہے۔ پانچ گھنٹے کی کارروائی کے بعد طالبان سیکیورٹی اہل کاروں نے اسپتال کو محفوظ قرار دے دیا تھا۔

اس سے قبل منگل کو ایک ٹوئٹ میں ذبیح اللہ مجاہد نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ حملے میں تین خواتین، ایک بچے اور تین طالبان کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے، جب کہ پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان کے ایک سیکیورٹی اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ کم از کم 25 افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد 50 سے زائد ہے۔ تاہم، سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد کا اعلان نہیں کیا گیا۔

خبر رساں ادارے نے طالبان اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں مولوی حمداللہ مخلص بھی شامل تھے جو کابل ملٹری کور کے سربراہ اور طالبان کے کمانڈر تھے اور پہلے فرد تھے جو سابق افغان صدر غنی کے کابل چھوڑنے کے بعد صدارتی محل میں داخل ہوئے تھے۔

شہر کے باسیوں کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں اسپتال کے اندر دھماکے کے بعد سابق سفارتی زون کے قریب اور شہر کے وزیر اکبر خان علاقے سے شعلے بھڑکتے نظر آئے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد کم از کم دو ہیلی کاپٹر پرواز کرتے دکھائی دیے، جو کسی زمانے میں مغربی حمایت یافتہ حکومت کی ملکیت ہوا کرتے تھے، جس پر طالبان نے قبضہ کر لیا تھا۔

اگست کے وسط میں جب طالبان نے مغربی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے کے بعد اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا، دھماکے، حملوں اور ہلاکتوں کی فہرست اب طویل ہوتی جا رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کا یہ دعویٰ کہ عشروں کی لڑائی کے بعد افغانستان کی صورت حال پرامن ہو گئی ہے، درست نہیں۔

دولت اسلامیہ، جس نے اگست میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد مساجد اور دیگر اہداف پر متعدد حملے کیے ہیں، 2017ء میں اسی اسپتال پر دھاوا بولا تھا، اس حملے میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

داعش خراسان کے ان حملوں کے بعد افغانستان سے متعلق یہ خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ شدت پسند گروہوں کو پنپنے سے کیسے روکا جائے، جو 2001ء میں امریکہ پر القاعدہ کے حملوں کے وقت افغانستان میں سرگرم عمل تھے۔

ایک اعلیٰ مغربی سفارت کار نے کہا ہے کہ، ''آج، اس خطے اور مغرب میں ہر کسی کے ذہن میں یہی سب سے بڑی تشویش ہے''۔

پاکستان سمیت بہت سے ملکوں اور اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) نے حملے کی مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے مشن برائے افغانستان نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ''طبی اہل کاروں اور سویلین آبادی کو ہدف بنا کر کیے جانے والے یہ حملے انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی سے متعلق بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے''۔

[اس خبر کا کچھ مواد رائٹرز سے لیا گیا ہے]

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG