رسائی کے لنکس

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ کا قبائلی علاقوں کا دورہ، عزائم کیا ہیں؟


فائل فوٹو

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے بعض اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ اگر یہ خبر درست ہے، تو یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے، جب افغانستان کے اندر مبینہ طور پر داعش خراسان کے حملوں کا سلسلہ تیز ہو رہا ہے، اور پاکستان میں بھی خاص طور پر سیکیورٹی فورسز پر حملے جاری ہیں۔

سیکیورٹی امور سے متعلق تجزیہ کارخدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر پاکستان اور افغانستان میں انتظامی کنٹرول سنبھالنے والے طالبان نے داعش کے خطرے کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے، تو پورے خطے کی سیکیورٹی خطرے میں پڑ جائے گی۔

نجم رفیق کا تعلق انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز سے ہے۔ اس بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف حوالوں اور ذرائع سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش یا IS-K کو بعض بیرونی طاقتوں کی مدد اور حمایت حاصل ہے جو خطے میں امن اور سکون کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتی ہیں اور یہ دونوں تنظیمیں Game spoiler کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

نجم رفیق کے مطابق، اگر یہ خبر درست ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر موجود ان علاقوں کا دورہ کیا ہے، جو ریاست پاکستان کا حصہ ہیں تو یہ پاکستان کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اور اگر اس خطرے کا ابھی روکنے کے اقدامات نہ کئے گئے تو آنے والے دنوں میں یہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے اور "جو یہ توقعات کی جا رہی ہیں کہ شاید اب خطے میں امن اور سکون قائمُ ہو جائے گا، وہ پوری نہ ہو سکیں"۔

نجم رفیق کا کہنا تھا کہ پاکستان اور طالبان کی حکومت کو خطے کی دوسری طاقتوں کی مدد سے اس خطرے سے نمٹنا ہو گا۔

افغان طالبان کی پاکستان کو ٹی ٹی پی کے خلاف مدد کرنے کی یقین دہانی
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:53 0:00

بریگیڈیر سعد نذیر کا تعلق انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز سے ہے۔ وہ سیکیورٹی اور افغان امور کے ماہر ہیں۔ وائس آف امریکہ سے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی کے ایک امریکی ٹی وی کو دیے گئےایک حالیہ انٹرویو کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے نور ولی نے ایک نیا موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقوں کو،جو اب مملکت پاکستان کا حصہ ہیں، آزاد حیثیت دی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹی ٹی پی کا ایک سیاسی حربہ ہے، جس کا مقصد مقامی لوگوں کو اپنا حامی بنانا ہے۔ اور دوسری جانب افغان طالبان کو ایک نئی راہ پر ڈالنا بھی اس کا ایک مقصدہو سکتا ہے کہ انہیں یہ باور کرایا جائے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک بفرخطہ قائم کرنا افغانستان کے مفاد میں ہو گا۔ اس طرح وہ افغان طالبان سے اپنی وابستگی بھی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سانحۂ اے پی ایس: والدین اب بھی جوابات کے منتظر
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:44 0:00

بریگیڈیر سعد نذیر کا کہنا تھا کہ اس قسم کا کوئی دورہ اگر ہوا ہے تو یہ ناممکنات میں سے نہیں ہے۔ لیکن اس کا کئی روز قیام اور مقامی لوگوں اور تحریک کے دھڑوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں، (باوجود اس کہ کہ اس کا دائرہ شمالی اور جنوبی وزیرستان تک ہی محدود ہو، کیونکہ اس کے علاوہ ٹی ٹی پی کا اور کسی علاقے میں اثر نہیں ہے۔) ریاست پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اور شاید اس کا ایک اور مقصد پاکستان کو یہ پیغام دینا بھی ہو سکتا ہے کہ ٹی ٹی پی فعال ہے اور ٹی ٹی پی کے باقی دھڑے اس کے ساتھ ہیں اور اگر پاکستان کسی دھڑے سے مذاکرات کر بھی رہا ہے۔ تو اس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔

اے پی ایس سانحہ، کیا عدالتی کمیشن والدین کا واحد سہارا
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:41 0:00

ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کے خلاف اپنے طور بھی کارروائی کرنی چاہئے اور پاکستان اور افغان حکومت کو مل کر انٹیلی جنس شیرنگ کے ذریعے مشترکہ کارروائی ان دونوں تنظیموں کے خلاف کرنی چاہئے۔ ورنہ دونوں ملکوں اور بطور مجموعی پورے خطے کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ اور وہ طاقتیں کامیاب ہو جائیں گی جو خطے میں عدم استحکام چاہتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG