رسائی کے لنکس

افغانستان کو بڑی فوج رکھنے کی ضرورت نہیں رہی، طالبان وزیر خارجہ امیر خان متقی


صوبہ ہلمند میں افغان نیشنل آرمی کے تعینات فوجی۔ 23 دسمبر 2015ء۔ (فائل فوٹو)

طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا ہے کہ اب افغانستان کو بڑی فوج رکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ اس ضمن میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ جن افراد نے گزشتہ حکومت کے دوران افغان قومی دفاع اور سیکیورٹی فورسز (اے این ڈی ایس ایف) میں کام کیا ہے، ان سارے افراد کو ملازمت پر نہیں رکھا جائے گا۔

متقی کے بقول، ''یہ فوج بیرونی مداخلت کے نتیجے میں بنائی گئی تھی، اتنی بڑی تعداد کی ہمیں مزید کوئی ضرورت نہیں''۔

انھوں نے یہ بات اسلام آباد میں ایک سرکاری تھنک ٹینک 'انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز'، میں منعقدہ ایک محفل مذاکرہ کے دوران کہی۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا ان کی حکومت جنگجو طالبان اور 'اے این ڈی ایس ایف' کے اہل کاروں کو فوج میں ملازمت دے گی، جس بات کا ماضی میں طالبان نے عندیہ دیا تھا کہ حکومت میں آنے کی صورت میں اس معاملے کو زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔

متقی نے کہا کہ ''افغانستان کو ایک مختصر فوج کی ضرورت ہے، جس میں صرف وہ افراد شامل ہوں گے جن میں خلوص، عزم اور حب الوطنی کا جذبہ ہو''۔

طالبان وزیر خارجہ دورہ پاکستان میں 20 رکنی وفد کی قیادت کر رہے تھے، جس نے اپنے قیام کے دوران باقی امور کے علاوہ تجارتی راہداری کھولنے سے متعلق معاملات پر گفت و شنید کی۔ جمعرات کے روز انھوں نے امریکہ، چین اور روس کے خصوصی نمائندگان برائے افغانستان سے بھی ملاقات کی، جو افغانستان پر منعقدہ 'ٹرائکا پلس' اجلاس میں شریک تھے۔

جب ان سے انسانی حقوق اور جامع حکومت تشکیل دینے سے متعلق سوال کیا گیا تو متقی نے تلخ لہجہ اختیار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بین الاقوامی برادری یہ معاملات سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

بقول ان کے، ''کل تک، اپوزیشن (طالبان) موت کے حقدار تھے۔ تب بھی، معاملہ (انسانی حقوق) کی انحرافی کا نہیں تھا۔ لیکن آج یہ خلاف ورزی کا معاملہ ہے''۔ بین الاقوامی برادری کو خبردار کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ ''20 برس کے بعد بھی آپ یہ نہیں سمجھ پائے کہ دباؤ ڈالنے کے یہ حربے طالبان پر کارگر ثابت نہیں ہوتے''۔

انھوں نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ موجودہ طالبان انتظامیہ سب کی شراکت پر مشتمل ہے چونکہ اس میں مختلف نسل کے ارکان شامل ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ بین الاقوامی برادری کی یہ کوشش ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو شامل کریں، جس بات کی روایت کہیں نہیں ملتی۔ بقول ان کے، ''ہم نے (امریکی) صدر (جو) بائیڈن سے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ (سابق) صدر (ڈونلڈ) ٹرمپ کو اپنی کابینہ میں شامل کریں''۔

صحافی طاہر خان کئی برسوں سے طالبان سے متعلق رپورٹنگ سے وابستہ رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ طالبان نے اب تک کسی ایک بھی ایسے فرد کا تقرر نہیں کیا جس کا طالبان سے تعلق نہ رہا ہو۔ ان کے بقول، ''نوے فی صد تقرریاں طالبان کے سرگرم کارکنان میں سے کی گئی ہیں، چاہے وہ کمانڈر ہوں یا جنگجو۔ باقی 10 فی صد وہ افراد ہیں جو سوشل میڈیا یا دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ان کے حامی ہیں''۔

طالبان کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے افغانستان سے متعلق اب تک ہونے والی متعدد علاقائی کانفرنسوں میں وہاں تمام فریقوں کی شمولیت پر مبنی حکومت کے مطالبے کو مرکزی اہمیت حامل رہی۔ جمعرات کو اسلام آباد میں منعقدہ 'ٹرائکا پلس' اجلاس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

جمعرات کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں طالبان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ''تمام افغانوں کے ساتھ مل کر جامع اور نمائندہ حکومت تشکیل دینے کی جانب اقدام کریں، جس میں تمام افغانوں کے حقوق کی پاسداری کی جائے؛ اور خواتین اور بچیوں کے حقوق کو یقینی بنایا جائے اور افغان معاشرے کے تمام شعبہ جات میں ان کی شرکت یقینی بنائی جائے''۔

اس سے قبل، اسی طرح ہی کے بیانات نئی دہلی، تہران اور ماسکو کے اجلاسوں میں سامنے آ چکے ہیں۔ طاہر خان نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ ''دنیا طالبان سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ دیگر سیاسی گروپوں اور حلقوں کو حکومت میں شامل کریں''۔

خواتین کی ملازمت اور تعلیم کے حقوق کے معاملے پر متقی نے کہا کہ صورت حال رفتہ رفتہ بہتر ہو رہی ہے۔ بقول ان کے، ''اس وقت شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والی 100 فی صد خواتین کام پر واپس آ چکی ہیں؛ جب کہ تعلیم کے شعبے میں صورت حال 75 فی صد تک ٹھیک ہو چکی ہے''۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب سے طالبان اقتدار میں آئے ہیں کسی ایک خاتون کو نوکری سے نہیں نکالا گیا۔ تاہم، ہیومن رائٹس واچ کی ہیدر بَر اس دعوے سے اختلاف کرتی ہے۔ ان کے الفاظ میں ''ہو سکتا ہے انھوں نے کسی خاتون سے یہ نہ کہا ہو کہ آپ کو روزگار سے نکالا جا رہا ہے، لیکن انھوں نے متعدد اور کئی مرتبہ انھیں یہ کہا ہے آپ کام پر نہ آئیں، اور آپ ہمیشہ کے لیے کام کرنا چھوڑ دیں''۔

خواتین کے حقوق سے متعلق کارکنان نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ طالبان کی جانب سے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ملک کی طالبات کے زیادہ تر ثانوی اسکولوں میں انھیں تعلیم سے روکا گیا ہے، جب کہ لڑکوں کے اسکول کھلے ہوئے ہیں۔ طالبان عہدے دار کہتے ہیں کہ وہ ایک منصوبے کو آخری شکل دے رہے ہیں، تاکہ تمام اسکولوں کو کھولا جا سکے، لیکن اس کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی۔

اس معاملے پر 'وائس آف امریکہ' کے ایک سوال پر، متقی نے کہا کہ ''کوئی 200،000 اساتذہ ہیں جو تعلیمی اداروں سے وابستہ ہیں۔ ہمیں امداد اور اعانت درکار ہے کہ ہم انھیں تنخواہیں دے سکیں۔ اب تک کسی نے آگے بڑھ کر یہ نہیں کہا کہ ہم انھیں تنخواہ دیں گے''۔

حقوق انسانی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو بہانہ بنا کر طالبان دراصل خواتین کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی ہیدر بَر نے کہا کہ ''اگر تو یہی معاملہ ہے کہ وہ اساتذہ کو تنخواہیں نہیں دے پا رہے ہیں تو پھر یہ مسئلہ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں ہی کے لیے یکساں ہے۔ لیکن اگر انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ طالبات کی تعلیم کو نہیں بلکہ طلبا کی تعلیم کو اولیت دی جائے تو پھر تو یہ امتیاز برتنے کا معاملہ ہے''

طالبان نے بارہا کہا ہے کہ وہ ثانوی اسکول کھولنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ہیدر بَر کے مطابق، ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اسکولوں کو شریعہ کے تابع بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔

بقول ان کے، ''سچ تو یہ ہے کہ 15 اگست سے قبل افغانستان میں مخلوط سرکاری ثانوی اسکول موجود نہیں تھے، اس لیے یہ مکمل طور پر ایک جعلی دلیل ہے''۔

رائٹرز کی ایک خبر کے مطابق، اس ماہ کے اوائل میں یونیسیف نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایک نظام وضع کر رہی ہے جس کے تحت، طالبان کو شامل کیے بغیر، افغان اساتذہ کو براہ راست تنخواہ ادا کی جائے گی۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے طالبان کی قیادت والی انتظامیہ کو رقوم فراہم کرنے یا اس کے ذریعے پیسے ادا کرنے پر ممانعت ہے۔

اس ہفتے کے اوائل میں برسلز سے ٹیلی فون بریفنگ کے دوران، امریکہ کے ایلچی برائے افغانستان، ٹھامس ویسٹ نے کہا تھا کہ افغانستان میں اساتذہ، سرکاری ملازمین اور دیگر افراد کو تنخواہیں دینے کے حوالے سے کئی بین الاقوامی تنظیمیں ''تعمیری اور فوری اقدام'' کا سوچ رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ''اس معاملے پر امریکہ نے ابھی کوئی موقف اختیار نہیں کیا''۔

متقی نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں کے برعکس، موجودہ طالبان انتظامیہ بین الاقوامی تعلقات میں ایک متوازن انداز اپنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بقول ان کے، پچھلی حکومتیں بین الاقوامی دباؤ کے سامنے کھڑی نہیں ہو سکتی تھیں، اور ساتھ ہی انھوں نے اپنے آپ کو بین الاقوامی برادری سے یکسر الگ تھلگ کر کے رکھا ہوا تھا۔ یہ حوالہ 1996ء سے 2001ء تک طالبان کی پچھلی حکومت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG