رسائی کے لنکس

افغان ہزارہ، خود کش حملوں کے سائے اور طالبان محافظ


کابل کے نواح میں ہزارہ قبرستان کا ایک منظر ۔بیس اکتوبر دو ہزار اکیس ۔ فوٹو اے پی

طالبان کے تین ماہ قبل افغانستان کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد افغان معاشرے میں حیران کُن نئے رابطے جنم لیتے نظر آرہے ہیں۔ جنگجو گروپ دولت اسلامیہ افغانستان کی شیعہ ہزاراہ اقلیتی برادری کا سخت دشمن رہا ہے۔ اگست کے بعد سے افغانستان کی ہزارہ شیعہ کمیونٹی کی مساجد میں داعش کے خود کش حملوں میں کم از کم ایک سو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ہزارہ افراد مجبور ہیں کہ اپنی سلامتی کے حوالے سے سخت گیر سنی طالبان کی فراہم کردہ یقین دہانیوں پر بھروسہ کریں۔

طالبان کئی عشروں تک ہزارہ برادری کو بدعتی قرار دیتے رہے ہیں۔ ہزارہ برادری کے کچھ ارکان طالبان کے ساتھ اچھی راہ و رسم رکھتے ہیں۔ لیکن، متعدد ہزارہ ایسے بھی ہیں جو اب بھی ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ ہزارہ برادری کے راہنما کہتے ہیں کہ وہ کئی بار طالبان قیادت سے مل چکے ہیں اور ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ بنیں، جس پیشکش کو وہ ٹھکرا چکے ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، جمعے کے دن نماز کی ادائیگی کےدوران، کابل کی ایک شیعہ زیارت کے باہر چارمسلح طالبان محافظ حفاظت پر مامور نظر آئے۔ انہی کے ہمراہ افغانستان کی شیعہ ہزارہ اقلیت کا ایک محافظ بھی تعینات تھے، جس نے کندھے پر ایک خودکار رائفل اٹھا رکھی تھی۔

ابو الفضل العباس مزار پر موجود ہزارہ محافظ کا نام سہراب تھا۔ انھوں نے بتایا کہ طالبان کے ساتھ ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ بقول ان کے، ''یہاں تک کہ کبھی کبھار ہم مسجد میں ایک ساتھ نماز پڑھتے ہیں''۔ سیکیورٹی وجوہ کی بنا پر انھوں نے اپنا پورا نام نہیں بتایا۔
لیکن سب لوگوں کی سوچ ایک جیسی نہیں ہے۔

کوئٹہ کی امام بارگاہ میں پناہ گزین افغان خاتون کی کہانی
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:24 0:00


ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق، ہزارہ کمیونٹی کو یقین ہے کہ طالبان کبھی بھی ان کو افغانستان کے اندر برابری کا مقام نہیں دیں گے اور ممکن ہے کہ کچھ ہی عرصے بعد یہی مشفق طالبان ان کے خلاف پھر سے مظالم پر اتر آئیں۔ تاہم کچھ ہزارہ افراد کا یہ کہنا ہے کہ اب جو طالبان ہیں وہ ان طالبان سے نسبتاً مختلف ہیں جو پہلے اقتدار میں رہے ہیں۔

سید عقیل کا تعلق بھی ہزارہ برادری سے ہے۔ وہ اپنی بیوی اور آٹھ ماہ کی بیٹی کے ساتھ مزار پر حاضری دینے آئے تھے۔ انھیں اچھا نہیں لگتا کہ پولیس کی وردی پہننے کے بجائے، متعدد طالبان ابھی تک روایتی لباس پہنتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے کوئی جہادی جنگجو ٹہل رہا ہو۔

بقول ان کے، ''پھر ہمیں یہ بھی پتا نہیں چلتا کہ کون طالبان ہے اور کون داعش ہے۔'' وہ اسلامک اسٹیٹ گروپ کو داعش کے عربی مخفف سے بلاتے ہیں۔

اقتدار پر قبضہ جمانے کے بعد طالبان نے اپنے آپ کو اعتدال پسند ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ 1990ء کی دہائی کے دوران اپنے پہلے دور حکومت میں وہ ہزارہ نسل کے گروہوں پر سخت مظالم کیا کرتے تھے۔ اس توقع کے ساتھ کہ بین الاقوامی برادری انھیں تسلیم کر لے گی، اب وہ خود کو ملک کی اقلیتوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہشمند ظاہر کرتے ہیں، جس میں یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ وہ ہزارہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے۔

افغان ہزارہ برادری کا واشنگٹن میں ایک مظاہرہ (فائل)
افغان ہزارہ برادری کا واشنگٹن میں ایک مظاہرہ (فائل)

طالبان کی ایک کثیر تعداد نسلی طور پر پشتو بولنے والے افراد پر مشتمل ہے۔ ہزارہ اقلیت کو شکایت ہے کہ افغانستان میں انھیں برابر کا شہری نہیں مانا جاتا۔

محمد جواد جوہری ہزارہ عالم ہیں جو اپنے غریب ارکان کی امداد کے لیے ایک فلاحی تنظیم چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ''گزشتہ دور کے برعکس، طالبان میں قدرے بہتری آئی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''مسئلہ یہ ہے کہ قانون ایک نہیں ہے۔ ہر طالب کا اپنا قانون ہے۔ اس لیے لوگ ڈر خوف کے ماحول میں رہتے ہیں''۔

اس بار جو بات مختلف لگتی ہے وہ یہ ہے کہ اب تک طالبان نے اجازت دے رکھی ہے کہ شیعہ افراد اپنی مذہبی تقریبات اپنے مسلک کے مطابق ادا کر سکتے ہیں، جس میں عاشورے کا سالانہ جلوس نکالنا بھی شامل ہے۔

ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افغان بچے بامیان میں بدھا کے مجسمے کے مقام پر کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ فائل فوٹو
ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افغان بچے بامیان میں بدھا کے مجسمے کے مقام پر کرکٹ کھیل رہے ہیں۔ فائل فوٹو

جوہری اور برادری کے دیگر راہنماؤں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر طالبان نے ہزارہ برادری کے محافظوں سے ہتھیار چھین لیے تھے جس کی مدد سے وہ کابل میں اپنی مساجد کی حفاظت کیا کرتے تھے۔ لیکن اکتوبر میں قندھار اور قندوز کے صوبوں میں شیعہ مساجد پر داعش کے تباہ کُن بم حملوں کے بعد طالبان نے زیادہ تر اسلحہ ہزارہ برادری کو واپس کردیا ہے۔ ساتھ ہی، نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران کچھ مساجد کی حفاظت کے لیے طالبان اپنے محافظ فراہم کرتے ہیں۔

طالبان حکومت کے ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا ہے کہ ''ہم ہر ایک کو تحفظ کا ماحول فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، جس میں خاص طور پر ہزارہ شامل ہیں۔ انھیں افغانستان ہی میں رہنا چاہیے۔ ملک چھوڑ کر جانا کسی کے حق میں بہتر نہیں ہوگا''۔

ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد (فائل)
ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد (فائل)

ہزارہ افراد اپنے تحفظ کے لیے طالبان سے مدد مانگتے ہیں۔ اس سے اس بات کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ وہ داعش کے گروہ سے کس قدر خوف زدہ ہیں، جو، محمد جواد جوہری کے بقول، ان کی نسل کشی چاہتا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران طالبان کی نسبت داعش نے ان پر بے انتہا مظالم ڈھائے۔ داعش نے ہزارہ برادری کے اسکولوں، اسپتالوں اور مساجد کو بم حملوں کا نشانہ بنایا، جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ داعش طالبان کا بھی دشمن ہے، اور وہ اکثر و بیشتر طالبان فورسز پر حملے کرتے ہیں۔

[خبر میں شامل مواد ایسو سی ایٹڈ پریس سے لیا گیا ہے]

XS
SM
MD
LG