رسائی کے لنکس

افغانستان: ننگرہار کی مسجد میں دھماکے سے کم ازکم 15 افراد زخمی


ننگرہار کی مسجد۔ (سوشل میڈیا سے لی گئی تصویر)

طالبان حکام نے کہا ہے کہ افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں نماز جمعہ کے دوران بم دھماکے میں کم از کم 15 نمازی زخمی ہوئے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان محمد حنیف نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ دھماکہ خیز مواد مسجد کے اندر رکھا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تاہم، عینی شاہدین نے اطلاع دی ہےکہ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ ضلع اسپن گھر میں واقع اس مسجد کا تعلق سنی مسلک سے ہے۔

فوری طور پر کسی نے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس صوبے میں داعش خراسان سے تعلق رکھنے والے علاقائی شدت پسند تقریباً آئے دن طالبان فورسز اور شہری آبادی کو بم دھماکوں کا نشانہ بناتے رہتے ہیں یا پھر گولیاں چلنے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

اگست میں جب سے طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھالا ہے، داعش خراسان افغانستان کے مختلف حصوں میں، جن میں ملک کا دارالحکومت کابل بھی شامل ہے، ہونے والے درجنوں حملوں کی ذمے داری قبول کر چکی ہے۔ تشدد کی ان کارروائیوں میں سینکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت شیعہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔

طالبان نے تشدد کی ان کارروائیوں کا جواب داعش خراسان کے مشتبہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کر کے دیا ہے، جس کا مقصد دہشت گردی کے خطرے کا قلع قمع بتایا جاتا ہے۔

بدھ کے روز طالبان انٹیلی جنس ایجنسی کے ترجمان نے کابل میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں داعش خراسان کے 600 شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں داعش خراسان کے کلیدی کمانڈر بھی شامل ہیں، جب کہ لگ بھگ 40 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

افغانستان میں داعش کے سرگرم کارندوں کے خلاف طالبان کی کامیابی کے بارے میں ایک سوال پر امریکی حکام نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

ان غیر مصدقہ دعوؤں کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ''ہم نے طالبان کے دعوے سنے ہیں۔ ہم اس جانب توجہ دلاتے ہیں کہ داعش خراسان پھر سے ابھرنے کی طاقت رکھنے والا دشمن ہے''۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ''واضح طور پر یہ بات طالبان کے ہی مفاد میں ہے کہ وہ اس زہریلے دہشت گرد گروہ کو ختم کرنے کی اپنی کوششوں کی جانب دھیان دیتے رہیں''۔

جمعے کے روز یہ بم حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک ہی روز قبل طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان کے اپنے دورے کے دوران کہا ہے کہ ان کی عبوری حکومت نے تھوڑے ہی عرصے کے اندر افغانستان میں سیاسی استحکام اور سلامتی کو بہتر کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG